عبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کے کئی ادارے، ذرائع ابلاغ اور تنظیمیں اس وقت خصوصی طور پرفلسطینیوں کی متروکہ املاک ان یہودیوں کو دلوانے کے لیے مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جو عرب ممالک میں اپنی جائیدادیں چھوڑ کراسرائیل میں آباد ہوئے تھے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ نے سنہ 2010 ء میں یہودی مہاجرین کے تحفظ کا ایک ایکٹ منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تل ابیب حکومت عرب ممالک میں جائیدادیں چھوڑ کرآنے والے یہودیوں کو ان کی املاک دلوانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل کا استعمال کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کےسیاسی حلقوں میں اس وقت ایک یہ تجویز بھی زیرغور ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کوئی نیا امن معاہدہ طے پاتا ہے اور فلسطینی اور اسرائیلی آپس میں کسی امن سمجھوتے پر متفق ہوتے ہیں تو اس میں مہاجرین کی املاک کو ایک دوسرے کے ساتھ "ایڈجسٹ” کرنے کے فارمولے پربھی عمل درآمد کیا جائے گا۔
اسرائیل کے اپنے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق فلسطینی مہاجرین کی متروکہ املاک یہودیوں کی کل متروکہ املاک کی نسبت 60 فی صد ہیں۔ گویا فلسطینیوں کی متروکہ املاک 60 اور یہودیوں کی عرب ممالک میں رضاکارانہ طورپر چھوڑی گئی املاک 40 فی صد ہیں۔ یوں اگر ان کا آپس میں تبادلہ ہوتا ہے تو یہودیوں کو اپنی اصل املاک سے کہیں زیادہ ملے گا۔ مجموعی طورپر فلسطینیوں کی متروکہ املاک کی مالیت 15 سے 20 ارب ڈالر کےبرابر ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
