مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی آباد کاروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ الخلیل شہر میں قائم”بیت ھداسا” نامی یہودی کالونی پرنقاب پوش فلسطینیوں نے پٹرول بموں سے حملے کیے ہیں تاہم ان کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
یہودی کالونی پرنقاب پوش فلسطینیوں کے پٹرول بم حملوں کے بعد بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل شہر کی شاہراہ الشلالہ کوگھیرے میں لے لیا اور راہ چلتے فلسطینیوں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کردیا۔ قابض فوجیوں نے تجارتی مراکز، گھروں ار دکانوں پربھی چھاپے مارے۔ تلاشی کے دوران ایک فلسینی سعید الشریف کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق غرب اردن کے کئی شہروں میں قابض فوج نے اتوار کے روز علی الصباح کئی شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکے لگا کرانہیں بند کردیا تھا جس کے نتیجے میں شہریوں کو اپنے کاروباری مراکز اور دفاتر میں جانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
عبرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ یہودی کالونی پراتوار کی علی الصباح کم سے کم 10 پٹرول بم پھینکے گئے، جہاں پر پٹرول بم کر پھٹے وہاں آگ لے شعلے اور دھوئیں کےبادل اٹھتےدکھائی دیے ہیں تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پٹرول بم حملوں کے بعد اسرائیلی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور شہر دفاع کے عملے کو کالونی کی طرف جاتے دیکھاگیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
