• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

"نطفے کی مصنوعی منتقلی”، فلسطینی قیدی جڑواں بچوں کا باپ بن گیا

منگل 21-07-2015
in فلسطین
0
plf semen-smugle
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں کی جانب سے انسانی حقوق کے اداروں کے توسط سےان کے مادہ تولید کی مصنوعی طریقے سے منتقلی کے عمل سے بچوں کی پیدائش کا رحجان زور پکڑ رہا ہے۔ اب تک اس عمل سے متعدد فلسطینی اسیر صاحب اولاد ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی "احمد السکنی” نامی فلسطینی قیدی ہے، جس کے نطفے کی مصنوعی منتقلی کےنتیجے میں اس کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق احمد السکنی کے جڑواں بچوں کے نام "معتز” اور "سوار” رکھے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 35 سالہ السکنی کو صہیونی فوج نے سنہ 2002 ء میں حراست میں لیا۔ ان پر اسلامی جہاد سے تعلق کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں 27 سال قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا۔

السکنی کا ایک بیٹا طارق 14  جولائی 2013 ء کو غزہ کی پٹی میں ایک ٹریفک حادثے میں وفات پاگیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیل میں قید السکنی کا نطفہ حاصل کیا اور اسے جدید سائنسی طریقے کے تحت اس کی اہلیہ کے رحم میں منتقل کردیا جہاں اللہ نے اسے جڑواں بیٹے دیے ہیں۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.