مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرکمانڈ سیکیورٹی اداروں کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ حماس کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاوئون شروع کردے بلکہ اس کی اصل کامیابی فلسطینی علاقوں میں یہودی فوج کی غنڈہ گردی کو روکنا اور یہودی انتہا پسندوں کی مداخلت بند کرنا ہے، لیکن یہاں پر حالات مختلف ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کےسیکیورٹی اداروں نے صہیونی دشمن کو تو کھلی چھٹی دے رکھی ہے مگر حماس کے محب وطن کارکنوں کو پکڑ کرجیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔
ابو مرزوق کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی نے قومی ایشوز کو تباہ کرنے کے ساتھ فلسطینی قوم کا مستقبل بھی دائو پرلگا دیاہے۔ انہوں نے تمام فلسطینی سیاسی قوتوں پر زوردیا کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی کی قوم دشمن پالیسی کوروکنے کے لیے بھی موثر اقدامات کریں۔
خیال رہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران غرب اردن میں عباس ملیشیا کی کارروائیوں میں حماس کے اڑھائی سو سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حماس نے اپنےکارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
