• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home غزہ

امدادی جہاز”فلوٹیلا” کو غزہ جانے سے روکنا اسرائیل کی بحری قذاقی ہے:قطر

منگل 30-06-2015
in غزہ
0
plf to-stop-flotilla
0
SHARES
0
VIEWS

خلیجی ریاست قطرنے فلسطین کے محصور علاقے غزہ کی پٹی کے عوام کے لیے امدادی سامان لانے والے سویڈن بحری جہاز”میرین” کو روکنے کے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی فوج کی ‘بحری قذاقی’ قرار دیا ہے۔ دوحہ نے تل ابیب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یرغمال بنائے گئے تیونس کے سابق صدر ڈاکٹر منصف المرزوقی  سمیت تمام یرغمالیوں کو فوری طورپر رہا کرے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں غزہ کی کے لیے امدادی قافلے”فریڈم فلوٹیلا 3 ” میں شامل امدادی کارکنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے قافلے میں شامل سویڈن کے بحری جہاز”میرین” کو کھلے سمندر میں روکے جانے اور اس میں سوار امدادی کارکنوں کو یرغمال بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل پہلے ہی غزہ کی پٹی کے عوام پر بری، بحری اور فضائی ناکہ بندی کرکے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ محصورین کے لیے آنے والے امدادی جہاز کو روکنا صہیونی جارحیت کے تسلسل کی کڑی ہے۔

دوحہ حکومت نے اسرائیلی حکومت سے ڈاکٹر منصف المرزوقی سمیت تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی نذرہونے والے امدادی جہاز کوغزہ پہنچانے اور یرغمال بنائے گئے امدادی کارکنوں اور سیاسی رہ نمائوں کی فوری رہائی کے لیے اسرائیل پردبائو ڈالے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے گذشتہ روز غزہ کی پٹی کے محصورین کے لیے امدادی سامان لانے والے بحری قافلے” فریڈم فلوٹیلا 3 ” میں شامل سویڈن کے جہاز "میرین” کو غزہ کے قریب سمندر میں روک لیا تھا جس کے بعد امدادی جہاز کو اسدود کے فوجی اڈے کی طرف لے جایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جہازمیں سوار تیونس کے سابق صدر سمیت کئی اہم امدادی کارکنوں کو یرغمال بنانے کےبعد ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ نو سال سے غزہ کی پٹی کی بحری ،بری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے اور وہاں بری اور بحری راستے سے کوئی بھی امدادی سامان لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔اسرائیلی فورسز محصور فلسطینیوں کی امداد کے لیے ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیتی ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیمیں اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے باضمیر سیاسی کارکنان پہلے بھی اسرائیل کی ناکا بندی کو توڑنے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن انھیں ہر مرتبہ ہی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔مئی 2010 ء میں بحر متوسط میں ترکی کی جانب سے بھیجے گئے امدادی قافلے پر اسرائیلی فورسز نے دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں دس ترک کارکنان  شہید اور پچاس زخمی ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.