مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے شمالی شہرجنین سے تعلق رکھنے والے اسیر مرعی قبہا کے والد حسین قبہا نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو 15 سال قید کی سزا کا سامنا ہے جس میں سے اس نے گیارہ سال قید پوری کرلی ہے۔
حسین نے بتایا کہ اس کے بیٹے کو جیلوں میں ایسی جگہ رکھا گیا ہے جہاں انسان کے لیے زندگی بسرکرنا ممکن نہیں۔ مسلسل تشدد اور بیماری کے باوجود لاپرواہی سے بیٹے کی ایک آنکھ کی بینائی مکمل طورپر ختم ہوچکی ہے جب کہ دوسری آنکھ کی بینائی 40 فی صد کم ہوچکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیرحراست بیٹا ملاقاتیوں کو اب پہچاننے سے بھی قاصر ہے۔ دوسری جانب جیلردانستہ طورپر مرعی قبہا کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ قبہا کو نہ تو اسپتال لے جایا گیا ہے اور نہ ہی اسے اسپتال میں ڈاکٹر کو معائنہ کرانے کا حق دیا گیا ہے۔
حسین قبہا نے نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس کے بیٹے کی جان بچانے اور بینائی لوٹانے میں مدد کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری کی جانب سے بروقت مداخلت نہ کی گئی اس کا بیٹا بینائی کی نعمت سے مکمل طورپر محروم ہوسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
