انسانی حقوق کی تنظیم”کلب برائے اسیران” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی کمانڈو یونٹ”نخشون” کے اہلکاروں نے 29 سالہ فلسطینی قیدی محمد عبد ربہ خرابی صحت کی بناء پر سوروکا اسپتال منتقل کیے جانے سے قبل وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوگیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ عبد ربہ ابھی نفحہ جیل میں تھے کہ "ںخشون” نامی فوجی یونٹ کے 20 اہلکاروں نے اس کی کوٹھڑی میں داخل ہوکر اسے مارنا شروع کردیا۔ وحشیانہ تشدد کے نیتجے میں معدے کے مریض فلسطینی کی حالت مزید خراب ہوگئی۔
خیال رہے کہ محمد عبد ربہ کو اسرائیل جیل میں سولہ سال قید کی سزا کا سامنا ہے تاہم وہ کئی سال سے معدے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے اسے نیند کی گولیاں دی جاتی رہی ہیں جس کے باعث اس کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
