مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عباس ملیشیا کی جانب سے جاری ایک تازہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق اسیر 42 سالہ بسام امین السائح اور اس کی اہلیہ سیکیورٹی اداروں کو مطلوب ہیں۔
مریض فلسطینی بسام کے خاندان کے ایک ذریعے نے بتایا کہ گذشتہ روز عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حکام نے ان کے گھرپرچھاپہ مارا اور بسام اور اس کی اہلیہ کو حراست میں لینے کی کوشش کی ہے تاہم گھرپرموجود نہ ہونے کے باعث ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ اس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے انہیں اشتہاری قرار دے کر آئندہ اتوار تک خود کو حکام کے حوالے کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔
خیال رہے کہ بسام السائح دوہرے کینسر کا شکار ہیں۔ سنہ 2011 ء میں ان کی ہڈیوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ سنہ 2013 ء میں خون کے کینسر کی بھی تشخیص ہوچکی ہے جس کے باعث وہ زیادہ تر اسپتال ہی میں وقت گذارتے ہیں۔ ان کے دل میں بھی اکثر تکلیف رہتی ہے اور دل کی دھڑکن بھی معمول سے زیادہ ہے۔ ان کی اہلیہ منیٰ ابو بکرکو تین ماہ قبل اسرائیلی فوج نے حراست میں لے رکھا ہے۔
بسام السائح خود بھی طویل عرصے تک اسرائیل کی جیلوں میں قید رہے ہیں۔ انہیں عباس ملیشیا کی جانب سے بھی سیاسی بنیادوں پر متعدد مرتبہ حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ان کی پہلی گرفتاری سنہ 1996 ء میں عمل میں لائی گئی۔ سنہ 2008 اور 2009 ء کے دوران عباس ملیشیا نے انہیں حراست میں لیا اور جنید نامی جیل میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
