مرکزاطلاعات فلسطین نے بیت المقدس کے رہائشی شریف عمرو المعروف ابو مہدی کی المناک کہانی پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے ابو مہدی کا بیت المقدس کی وادی الجوز کالونی میں واقع مکان دو ماہ قبل بلڈوزروں کی مدد سے گرادیا تھا جس کے بعد گرائے گئے مکان کا ملبہ ہٹانے کا حکم اسے دیا گیا تھا۔
اپنے منہدم کردہ مکان کے ملبے پر بیٹھے ابو مہدی کے چہرےسے دکھ اور غم کے آثار واضح طور پردیکھے جاسکتے ہیں۔ صہیونی حکام نے اس کا مکان مسمار کرنے کے بعد اب اسے آئندہ اتوار تک ملبہ صاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ بہ صورت دیگراسرائیلی فوج طاقت کے ذریعے اس سے یہ کام کرروائے گی اور جرمانہ بھی کرے گی۔ صہیونی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کا مکان اسرائیلی بلدیہ کی ملکیتی جگہ پر ہے جبکہ ابو مہدی کا کہنا ہے کہ یہ مکان 1967 ء سےبھی پہلے یہاں پر موجود تھا جب یہاں پر کسی صہیونی بلدیہ کا کوئی وجود بھی نہیں تھا۔
ابو مہدی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، فلسطینی اتھارٹی اور اردنی حکومت سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اسے یہودیوں کی دھمکیوں سے نجات دلانے کےساتھ ساتھ اس کی اراضی بھی یہودیوں کے تسلط میں جانے سے بچانے میں اس کی مدد کریں۔ ابو مہدی کا کہنا ہے کہ مکان مسمار کیے جانے کے بعد اس کے بیوی بچے کھلے آسمان تلے زندگی بسرکرنےپرمجبور ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس کی مدد کریں۔
خیال رہے کہ بیت المقدس میں مکانات مسماری سے پریشان ابو مہدی واحد فلسطینی نہیں بلکہ آئے روز قابض صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات مسمار کردیے جاتے ہیں۔ بعض شہریوں کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مکانات از خود مسمار کردیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
