اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار”ہارٹز” نے اپنی رپورٹ میں پہلے اسرائیلی وزیراعظم کے دور میں جاری ان کا ایک مکتوب شائع کیا ہے جس میں انہوں نے عسکری قیادت کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ حیفا اور دوسرے فلسطینی علاقوں سے ھجرت کرجانے والے فلسطینیوں کو دوبارہ وہاں پرآباد ہونے سے طاقت کے ذریعے روکے۔
اخبار لکھتا ہے کہ جس مکتوب میں فلسطینیوں کی حیفا میں دوبارہ آباد کاری روکنے کا حکم دیا گیا اس پر اسرائیل کے پہلے وزیراعظم بن گوریون کے دستخط ثبت ہیں۔ یہ مکتوب آئندہ ہفتے نیلامی ایک نمائش میں پیش کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق مکتوب کی ایک کاپی "اپا حوشی”نامی ایک یہودی لیڈر کو بھی ارسال کی گئی گئی۔ حوشی کو یہ خط وسط جون 1948 ء کو ملا جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ جب تک جنگ جاری ہے فلسطین سے ھجرت کرنے والے عربوں کو ان کے گھروں میں دوبارہ آباد ہونے سے روکا جائے۔ کچھ ہی عرصے کے بعد مسٹر آپا حوشی حیفا شہر کے اسرائیلی میئر منتخب ہوگئے تھے۔
مکتوب میں لکھاگیا ہے کہ "میں نے سنا ہے کہ حیفا میں برطانونی قونصل جنرل مسٹر سیریل ماریٹ فلسطینی مہاجرین کی واپسی کی کوشش کررہے ہیں۔ فلسطینی ہمارے دشمن ہیں اور ان کی حیفا میں واپسی کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ میں تمام اداروں کو یہ ہدایت کرتاہوں کہ وہ فلسطینیوں کو واپس آنے سے روکیں”۔
یاد رہے کہ سنہ 1948 ء میں فلسطین میں قیام اسرائیل کے وقت لاکھوں فلسطینیوں کو طاقت کے ذریعے ان کےگھربار چھوڑںے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ سنہ 1948 ء کی جنگ میں فلسطین سے نکالے گئے لاکھوں افراد آج بھی اندرون ملک اور پڑوسی ملکوں لبنان، شام، اردن، مصر اور عراق میں موجود ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
