مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق 40 سالہ اسیرمحمود سلامہ الدھینی کی اہلیہ ام العزنے بتایا کہ بتایا کہ پچھلے تیرہ سال سے اس کے شہور سےملاقات سے محروم رکھا گیا ہے۔ صہیونی حکام کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ اسیر کہ اہلیہ کا تعلق فلسطین سے نہیں بلکہ اردن سے ہے اور کسی اردنی شہری کو اسرائیلی جیلوں میں کسی قیدی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
نیزصہیونی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ محمود سلامہ کا تعلق اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘سے ہے اور حماس کے قیدیوں کے ساتھ ملاقات کی بہت کم اجازت دی جاتی ہے۔
ام العزنے بتایا کہ اب اردنی حکام بھی ان کے ساتھ تعاون نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے 10 سال قبل فلسطین کا پاسپورٹ بنوایا مگر اردنی حکام نے اس کی تجدید سے انکار کردیا ہے۔ اس لیے اب ان کے اور دیگر اہل خانہ کی ان کے شوہر سے ملاقات پرپابندی ہے۔
ام العز کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے اردنی حکام کی جانب سے ان کے 14 سالہ بیٹے کو اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے مگر صہیونی حکام بیٹے کو بھی اسرائیل جانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی اسیر کی اردنی نژاد اہلیہ نے سنہ 1999 ء میں اپنے فلسطینی شناختی کارڈ کے لیے درخواست دی تھی مگر اردنی شہری ہونے کی بناء پراس کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
اس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بھی اس کے ساتھ تعاون نہیں کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں اپنے شوہرسے ملاقات سے محروم رہنے کی بناء پر وہ ان کی کوئی قانونی مدد کرنے سے بھی قاصر ہیں۔
خیال رہے کہ محمود الدھینی کو جنوری 2002 ء میں حراست میں لیا گیا۔ انہیں 16 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
