اسیر کی اہلیہ ام عبدالرحمان نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ ’’مجھے میرے شوہر کے وکیل نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ الشیخ عدنان نے جیل میں مسلسل تیسری بار انتظامی حراست میں چار ماہ کی توسیع کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
ام عبدالرحمان نے بتایا کہ الشیخ عدنان اس وقت ھداریم جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ بھوک ہڑتال کے بعد اسرائیلی جیلروں نے انہیں قید تنہائی میں ڈال دیا ہے تاکہ ان کی بھوک ہڑتال کا عزم توڑا جاسکے۔
خیال رہے کہ الشیخ عدنان کو 08 جولائی 2014 ء کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں گرفتاری کے بعد چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامی حراست کی مدت ختم ہوتے عدالت نے ان کی رہائی کا حکم صادر کیا تاہم صہیونی سرکاری وکیل اور پراسیکیوٹران کی رہائی کے راہ میں حائل ہوگئے اور انہوں ںے الشیخ عدنان کو دوبارہ انتظامی حراست میں رکھنے کی درخواست دی۔ عدالت نے مزید چار ماہ کے لیے انہیں انتظامی قید کے تحت جیل بھیج دیا۔ حال ہی میں ان کی حراست میں تیسری بار توسیع کی گئی ہے جس پر وہ بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال پرمجبور ہوئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
