مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اندورن اور بیرون ملک موجود فلسطینی سرمایہ کاروں نےکل سوموار کو رام اللہ میں ’’اپنے وطن کی اپنے ہاتھوں سے تعمیر‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی جس میں سیکڑوں کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
غزہ کی پٹی میں سرمایہ کاری کا تخیل امریکا میں مقیم فلسطینی کاروباری شخصیت فاروق الشامی کی جانب سے پیش کیا گیا۔ ان کی جانب سے دیگر فلسطینی تاجروں سے بھی کہا گیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں سرمایہ کاری کے لیے آگے بڑھیں۔ الشامی کی اپیل پر سیکڑوں تاجروں نے غزہ کی پٹی میں ترقیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق تمام تاجر برادری آئندہ چند ہفتوں کےدوران ترقیاتی شعبوں میں سرماریہ کاری شروع کریں گے۔
کانفرنس کے بعد ترک خبررساں ایجنسی’’اناطولیہ‘‘ سے بات کرتے ہوئے فاروق الشامی کا کہنا تھا کہ تمام تاجروں نے مشترکہ طورپر’’بیگ بال‘‘ کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا ہے جو غزہ کی پٹی میں سرمایہ کاری شروع کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں سرمایہ کاری میں حصہ لینے والے 50 سرمایہ کاروں اور اداروں کا تعلق امریکا، یورپ، ترکی، اردن، متحدہ عرب امارات اور سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطین سےہے۔ یہ سرمایہ کار مجموعی طورپر ایک سو تین ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
ایک سوال کےجواب میں الشامی نے بتایا کہ فلسطینی اور غیرملکی سرمایہ کار زراعت، بالخصوص کھجور کی کاشت، بجلی،فاضل مادے کے اتلاف، شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں، سیاحت اور لائیواسٹاک کے شعبے میں رقوم لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری نہ صرف غزہ کی پٹی میں کی جائے گی بلکہ مغربی کنارے اور بیت المقدس تک سرمایہ کاری کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔کانفرنس میں 500 تاجروں اور کاروباری شخصیات نے شرکت کرکے عہد کیاکہ وہ فلسطین میں سرمایہ کے لیے ہرممکن کوششیں کریں گے۔
غزہ کی پٹی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں سرماریہ کاری سے بے روزگاری اور غربت کی شرح میں یقینا کمی آئے گی۔ اس وت فلسطین میں تین لاکھ 38 ہزار افراد بے روزگار ہیں۔ جو کل آبادی کا 27 فیصد ہیں۔ بے روزگاروں میں 24 فی صد مرد اور 38 فی صد خواتین شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
