مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے پارلیمنٹ کے ایک نائب کی حیثیت سے سعودی عرب کے فرمانروا کے نام ایک مکتوب ارسال کیاہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی بین الاقوامی گذرگاہ رفح پچھلے 100 دن سے مسلسل بند ہے۔ مصری حکومت سے بار بار مطالبے کے باوجود رفح بارڈر کو کھولا نہیں گیا ہے۔ اس لیے ہم سعودی عرب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ رفح گذرگاہ کو کھلوانے کے لیے قاہرہ حکومت پر دبائو ڈالے۔
ڈاکٹر احمد بحر نے سعودی عرب کے فلسطینیوں کی حمایت اور مدد پر مبنی کردار کی تعریف کی اور کہا کہ سعودی حکومت نے ہرمشکل میں فلسطینی عوام کا ساتھ دیا ہے۔ موجودہ حالات میں جب غزہ کی پٹی کی دو ملین آبادی اسرائیل کے محاصرے کا شکار ہے ہم ایک بارپھر سعودی حکومت سے مدد کی درخواست کرتے ہیں کہ وہ رفح گذر گاہ کو کھلوانے کے لیے مصری حکومت پر دبائو ڈالے۔
شاہ سلمان کو لکھے گئے خط میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی آٹھ سال سے مسلط کی گئی ناکہ بندی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معاشی تباہی، بے روزگاری اور غربت کی بھی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور سعودی عرب سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے موثراقدامات کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
