مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ رائد صلاح نے ان خیالات کا اظہار وسطی فلسطین کے دھمش قصبے میں نکالی گئی ایک احتجاجی ریلی سے خطاب میں کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ ان پانچ فلسطینی خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا تھا جن کے مکانات کوحال ہی میں صہیونی غنڈہ گرد فوجیوں نے غیر قانونی قرار دے کر مسمار کردیا تھا۔
احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں فلسطینیوں نے شرکت کی اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ فلسطینیوں نے پلےکارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مکانات مسماری بند کرنے کے مطالبات درج تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے الشیخ راید صلاح نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ فلسطینیوں کے مکانات مسماری کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی پالیسی سے باز آئے ورنہ اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت ایک منظم سازش کے تحٹ شمالی فلسطین کے دھمش، کفر کنا، النقب اور الرملہ سمیت سیکڑوں دیہاتوں اور شہروں میں فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے کی سازش کررہا ہے لیکن اسرائیل کو یہ سازشیں مہنگی پڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مکانات مسماری اور منظم ریاستی دہشت گردی کے خلاف فلسطینی عوام میں نفرت اور غم و غصے کا ایک لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔
الشیخ راید صلاح کا کہنا تھا کہ ہم نے عہد کیا ہے کہ اسرائیلی دشمن کے ہاتھوں مسمار ہونے والی ایک ایک عمارت کو دوبارہ تعمیر کریں گے چاہے ہمیں یہ کام باربار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اندرون فلسطین میں فلسطینی آبادی کے 60 ہزار مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں گرانے کی گھنائونی سازش تیار کررکھی ہے۔
الشیخ رائد صلاح کا کہنا تھاکہ اسرائیل میں کوئی دائیں بائیں یا اعتدال پسند سیاسی جماعت نہیں بلکہ مختلف ناموں کے ساتھ سرگرم تمام سیاسی گروپ انتہا پسند ہیں۔ فلسطینیوں کے حوالے سے سب کی پالیسی یکساں ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک اسرائیل کی کوئی سیاسی جماعت اعتدال پسند نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
