مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ اور البیرہ گورنریوں میں تاجر برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے علی صافی کی تدفین تک کاورباری سرگرمیاں بند رکھنے پراتفاق کیا ہے۔ تاکہ شہید کی نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو شریک کیا جاسکے۔
گذشتہ روز علی صافی کی اسپتال میں شہادت کی خبر پھیلتے ہی شہری سڑکوں پرنکل آئے اور انہوں نے صہیونی فوج کی کھلے عام ریاستی دہشت گردی کےخلاف شدید نعرے بازی کی۔ شہریوں نے بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیلی فوج کا کڑا احتساب کرنے اور جنگی جرائم کی عالمی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ فلسطینی نوجوان علی صافی کو ایک ہفتہ قبل ایک احتجاجی مظاہرے کےدوران اسرائیلی فوجیوں نے گولی ماردی تھی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا تھا اسے رام اللہ کےایک سرکاری اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ چند روز زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جام شہادت نوش کرگیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
