مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الاقصیٰ ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود الزھار نے کہا کہ صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی کے لاکھوں شہریوں کا محاصرہ مزید سخت کردیا لیکن ہم صدر عباس کو ایسا ہرگز نہیں کرنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس اور ان کی جماعت کے بعض لوگ غزہ کی پٹی میں بدامنی پھیلانے کی سازشوں میں بھی ملوث ہیں۔ حماس اس حوالے سے جلد ہی حقائق قوم کے سامنے رکھے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمود الزھار نے کہا کہ اوسلومعاہدے کی پیداوار نے قوم کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ فلسطینی تحریک مزاحمت نے جو کامیابیاں حاصل کی تھیں انہیں بھی برباد کردیا گیا۔ ان کا اشارہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب تھا جس کا قیام سنہ 1993 ء میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان طے اوسلو معاہدے کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔
ایک دوسرےسوال کے جواب میں ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ حماس نے اسرائیل اور صدر محمود عباس کی ملی بھگت سے غزہ کی پٹی کے خلاف ہونے والی کئی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی ہم غزہ کے عوام کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی جانب سے طویل جنگ بندی نہ ہونے پر اسرائیل سخت پریشان ہے اور جنگ بندی کو وسعت دینے کے لیے طرح طرح کی پیشکشیں کررہا ہے۔ تاہم فلسطینی عوام ایسی کوئی پیش کش قبول نہیں کریں گے جس میں ان کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
