مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی نوجوانوں نے حال ہی میں فیس بک پر ایک مہم شروع کی تھی جس میں فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کے دبائو میں آ کر فیس بک کی انتظامیہ نے ان سیاسی کارکنوں کے صفحات ہی بند کرا دیے ہیں، جس کے بعد کارکنوں نے نئے صفحات کھول لیے ہیں۔
سیاسی گرفتاریوں کے خلاف بنائے مرکزی صفحہ پرپوسٹ ایک بیان میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ فیس بک انتظامیہ بار بار ان کے صفحات کو بلاک کر رہی ہے لیکن وہ نئے ناموں کے ساتھ صفحات بنا رہے ہیں۔
سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام کی طرف سے دبائو کے بعد اب فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بھی فیس بک پر دبائو ہے تاکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں شہری کسی قسم کی آزادانہ سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لے سکیں۔
خیال رہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں میں فیس بک اور سماجی رابطے کی دیگر ویب سائیٹس کی بندش کی شکایت پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ اس سے قبل بھی فلسطینی شہری اس نوعیت کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ فلسطینی اتھارٹی اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے سیاسی کارکنوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
