مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے دورہ تیونس کےدوران ایک انٹرویو میں عباس زکی نے تسلیم کیا کہ فلسطین کی مقتدر سیاسی قیادت نے بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ اب ان غلطیوں کے ازالے کا وقت آن پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کی غلطیوں کا ازالہ قومی مفاہمت ہی کی صورت میں ممکن ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطین کی منتشر قیادت اور جماعتوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کے خلاف جدو جہد کے لیے ایک مناسب ماحول کی ضرورت ہےاور فلسطین کی تمام جماعتوں کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے تاکہ فلسطینیوں کو آزادی کی منزل سے ہمکنار کرنے کی کوششیں جلد رنگ لاسکیں۔
عباس زکی نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے محصولات روکنا فلسطینیوں کی املاک پر ڈاکہ ہے۔ صہیونی ریاست کی جانب سے یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ فلسطینیوں پر دبائو ڈال کرانہیں اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹٰیکنے پر مجبورکیا جاسکے تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل بے شک فلسطینیوں کے محصولات روک دے لیکن فلسطینی قوم اسکے ساتھ ہاتھ نہیں پھیلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی برادری کے تعاون سے اسرائیل سے اپنے تمام حقوق حاصل کرائیں گے۔
فلسطینی سیاست دان کا کہنا تھا کہ آئندہ اپریل میں فلسطینی اتھارٹی ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات کےقیام کی تیاری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں لانے کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کو عملی شکل دی جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
