اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے "ٹی وی 2” نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں غیراخلاقی سرگرمیوں اور لوٹ مار میں فوج کی اسپیشل کمانڈو یونٹ "گولانی” کے اہلکار پیش پیش رہے ہیں۔
ٹی وی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیاے کہ فوج کی گولانی یونٹ کے اہلکاروں کے ہاتھوں غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے واقعات سامنے آنے کے بعد ان کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا لوٹ مار میں ملوث کمانڈو یونٹ کے اہلکار فوج میں کن عہدوں پر فائز ہیں تاہم اس واقعے نے صہیونی فوج کے فلسطینیوں کے خلاف ایک اور سنگین جنگی جرم کی قلعی کھول دی ہے۔
اس سے قبل سنہ 2008ء کے آخر میں غزہ کی پٹی میں مسلط کی گئی اسرائیل کی جنگ میں بھی عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر نقدی، زیورات اور قیمتی سامان لوٹ لیا تھا۔ لوٹ مار کا بازار مشرقی جبالیا میں عزبہ عبد ربہ کے مقام پر گرم رہا جہاں شہری کروڑوں کی نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم ہوگئے تھے۔
غزہ میں جنگ سے متاثرہ کئی خاندانوں کی طرف سے بھی متعدد مرتبہ یہ شکایات سامنے آئی ہیں کہ قابض فوج دراندازی کے دوران ان کے گھروں میں گھس کر قیمتی سامان اور نقدی لوٹتی رہی ہے۔
