یاد رہے کہ ملاک الخطیب کو حال ہی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر یہودی آباد کاروں کو خنجر سے حملہ کرنے کی کوشش کا الزام عاید کیا گیا تھا اور اسی الزام میں اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے اسے دو ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ جیل بھیجے جانے کے بعد صہیونی حکام نے اس کی اہل خانہ سے ملاقات پر بھی پابندی عاید کر رکھی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم "مرکز احرار” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملاک الخطیب کے اہل خانہ بہت پریشان ہیں۔ اسے "ھشارون” جیل میں رکھا گیا ہے جہاں اس کے اقارب سے اس کی ملاقات پر بھی پابندی عاید ہے۔
ملاک کے اہل خانہ کا کہنا ہے ان کی بچی کو گرفتار ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ گذر چکا ہے۔ وہ بار بار اسرائیلی جیلوں کا چکر لگاتے ہیں لیکن انہیں اس سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے جس سے انہیں اس کی صحت کے بارے میں بھی پریشانی ہو رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
