مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "اسیران ریڈیو” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے خفیہ طور پر جنوری کے مہینے میں ایک سو اکتیس فلسطینیوں کو انتظامی قید کی سزائیں دیں۔ انتظامی حراست میں رکھنے کے ساتھ ان فلسطینیوں کو تفتیش کی آڑ میں تشدد کا نشانہ بنانے اورانہیں اذیتیں دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ ان میں سے بعض سابقہ اسیران بھی شامل ہیں جنہیں پہلے بھی انتظامی قید میں رکھا گیا تھا اور اب ان کی انتظامی حراست میں تجدید کی گئی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں منتقل کیے جانے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ماہ 131 فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ 176 کے ریمانڈ میں مزید کئی ہفتوں کی توسیع کی گئی۔ جن اسیران کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔ ان کے مقدمات میں بھی مزید توسیع کی گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
