مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ فوج کی اسپیشل فورس کو قیدیوں پر تشدد کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ یہودی فوج آئے روز جیلوں پر چھاپے مارتے اور قیدیوں سے غیر انسانی سلوک کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج کے جنگی جرائم اور منظم ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ کسی ایک جیل یا چند قیدیوں تک محدود نہیں بلکہ تمام اسیران یکساں وحشیانہ سلوک کا سامنا کر رہے ہیں۔ صہیونی تفتیش کار قیدیوں کے کمروں کی تلاشی کے دوران اسیران کو گولیاں مارنے سے بھی نہیں چوکتے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا بین الاقوامی انسانی حقوق کی عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جنیوا معاہدے کی دفعہ 85 کےتحت قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کو جنگی جرم سے تعبیرکیا گیا ہے۔ قیدیوں کو وکیل کی اجازت نہ دینا اور اپنی گرفتاری کے خلاف دلائل دینے سے روکنا بھی جرم قراردیا جا چکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
