دیر البلح سے مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ مبینہ طور پرتین نقاب پوش ڈاکو پروفیسر المصری کے گھر میں داخل ہوئے اور بندوق کی نوک پر گھر میں موجود تمام افراد کو ایک کمرے میں بند کردیا۔ اس دوران پروفیسر المصری نے مزاحمت کی کوشش کی تو ڈاکووں نے ان کے سرمیں کوئی ایسی چیز ماری جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ ڈاکٹو انہیں قتل کرنے کے بعد سونا، زیورات اور نقدی لے کر فرار ہوگئے۔
غزہ پبلک پراسیکیوٹر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے وہ جلد قاتلوں کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دیں گے۔ پولیس نے مقتول پروفیسر کی میت قبضے میں لے کر اس کا پوسٹم مارٹم شروع کردیا ہے اور ساتھ ہی قاتلوں کی تلاش کے لیے ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
