مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ’’انفارمیشن بنک آبزرویٹری یونٹ‘‘ کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2000 ء کے بعد سے اب تک مشرقی بیت المقدس میں مسمار شدہ مکانوں کی تعداد 1342 ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں 3031 بچوں اور 1506 خواتین سمیت 5760 افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2014 ء کے دوران بیت المقدس میں صہیونی بلدیہ کے حکم کے تحت فلسطینی شہریوں کے ایک سو بارہ مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں فوج کی مدد سے منہدم کرا دیا گیا۔ مکانات مسماری کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی گھروں کی چھت سے محروم ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق بیت المقدس میں گذشتہ برس منہدم کیے گئے مکانات سے 199 بچوں اور 83 خواتین سمیت 341 افراد بے گھر ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں گذشتہ برس فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے رجحان میں غٖیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ قابض فوج کی جانب سے گذشتہ برس 65 رہائشی اور 47 غیر رہائشی فلیٹس مسمار کیے گئے۔ جبکہ 20 فلسطینیوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مکان مسمار کرنے پر مھبور کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں الطور کے مقام پر 15 مکانات مسمار کیے گئے جس کے نتیجے میں 39 بچوں سمیت 64 افراد بے گھر ہوئے۔ بیت حنینا میں مسماری کی 14 کارروائیاں کی گئیں جن میں 39 بچوں سمیت 65 شہری بے گھر ہوئے۔
اسی طرح سلوان میں آٹھ انہدامی کارروائیاں کی گئیں جن میں 29 بچوں سمیت 40 افراد بے گھر ہوئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
