• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی جیلوں میں 6500 فلسطینی اسیران کے ساتھ سال 2014ء اختتام پذیر

جمعرات 25-12-2014
in فلسطین
0
plf 6500prisnors
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے خلاف کریک ڈاون کا سلسلہ رواں سال کی دوسری شش ماہی میں زیادہ زور پکڑ گیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم چار ہزار فلسطینیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی تعداد 6500 سے زیادہ ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کے ڈائریکٹر عبدالناصر فروانہ بے بتایا کہ سال 2014ء کا اختتام ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل کی 18 جیلوں اور حراستی مراکز میں 06 ہزار 500 فلسطینیوں کو ٹھونسا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال میں جون کے بعد فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کا وحشیانہ کریک ڈاون شروع ہوا جس میں کم سے کم 4000 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے کچھ شہری تو رہا کیے گئے تاہم بیشتر کو مخلتف جیلی مقدمات کے تحت جیلوں میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔

فروانہ کی فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق زیرحراست فلسطینیوں میں 18 سال سے کم عمر کے 200 بچے اور 21 خواتین بھی شامل ہیں۔ 500  فلسطینیوں کو بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان میں فلسطینی مجلس قانون ساز کے 23 ارکان شامل ہیں۔ اہم شخصیات میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک، عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل احمد سعدات، فتح کی سینٹرل کونسل کے رکن مروان برغوثی، دو سابق وزیر عیسیٰ الجعبری اور وصفی قبہا شامل ہیں۔ اسیران میں سے 31 20 سال سے زاید عرصے سے زیرحراست ہیں۔ تیس قیدی سنہ 1994ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان طے پائے اوسلو معاہدے سے بھی پہلے سے زیرحراست ہیں جبکہ 16 اسیران ربع صدی سے قید ہیں اور ایک قیدی ایسا بھی ہے جس کی اسیری کی مدت 32 سال ہوچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسیران میں 478 فلسطینیوں کو ایک یا کئی بار کی عمر قید سزا کا سامنا ہے۔ ان میں عبداللہ البرغوثی وہ اسیرہیں جنہیں سب سے زیادہ عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں ہیں۔ انہیں 67 مرتبہ عمر قید کی سزا اور 250 سال اضافی قید سنائی گئی ہے۔

اسیران میں 1500 مختلف جان لیوا امراض کا شکار ہیں۔ کچھ ایسے اسیر بھی ہیں جو خود سے حرکت کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے لیکن اسرائیل انہیں بھی اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے جیلوں میں بند کیے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے فلسطینیوں میں سے 100 فی صد کو حراستی مراکز میں وحشیانہ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں دی جاتی ہیں اور ان سے غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.