اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق نیربرکات کا کہنا ہے کہ آج اتوار سے پولیس کی اضافی پچاس گشتی پارٹیاں اور بلدیاتی حکومت کے نمائندے مشترکہ طور پر گشت کریں گے۔ اس کے علاوہ شہر میں پرتشدد کارروائیوں کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر خفیہ کیمرے لگائے جا رہے ہیں تاکہ فلسطینیوں کی جانب سے یہودیوں پر ہونے والے حملوں کی نگرانی کی جاسکے۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی میئر نے کہا کہ پولیس کے 30 دستے صرف تعلیمی اداروں کی حفاظت پر مامور کیے جائیں گے۔ ان کے علاوہ 215 پولیس اہلکار کم عمر بچوں کے اسکول اور بچوں کی آمد ورفت کی حفاطت پر مامور کیے جا رہے ہیں۔ شہر مں جگہ جگہ خفیہ کیمروں سے بھی مانیٹرنگ کی جائے گی۔
خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ جولائی کے بعد سے اس وقت حالات کشیدہ چلے آ رہے ہیں جب تین یہودی آباد کاروں کو نامعلوم افراد نے اغواء کے بعد قتل کردیا۔ اس واقعے کے چند روز بعد یہودی شرپسندوں نے ایک فلسطینی لڑکے محمد ابوخضیر کو نماز فجر کے وقت اغواء کے بعد نہایت بے دردی سے آگ لگا کرشہید کردیا تھا۔ موجودہ کشیدگی کی بنیاد ابو خضیر کی شہادت بتائی جاتی ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ اب اس میں غیرمعمولی شدت آتی جا رہی ہے۔
صہیونی حکومت فلسطینیوں کی تحریک روکنے کے لیے پہلے بھی انتقامی ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے۔ اضافی پولیس اور خفیہ کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے جس کا اصل مقصد فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت کو کچلنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
