مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا بدھ کو مقامی شہری جب نماز فجر کی ادائی کے لیے مسجد میں گئے تو آگ کے شعلے پہلی منزل کو نذر آتش کرنے کے دوسری میں داخل ہو چکے تھے۔ نمازیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی اور کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا تاہم اس دوران مسجد کی ایک منزل بری طرح جھلس گئی تھی جس میں رکھے قرآن پاک کے نسخے اور دیگر اسلامی کتب بھی خاکستر ہوگئی تھیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ مسجد کو پٹرول چھڑک کر آگ لگائی تھی۔ اس کے علاوہ مسجد کی بیرونی دیواروں پر عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف عبرانی میں نسل پرستانہ نعروں کی چاکنگ کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ فلسطین میں یہودی شرپسندوں کے ہاتھوں کسی مسجد کو نذر آتش کرنے کی یہ پہلی مذموم حرکت نہیں بلکہ اس طرح کے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ صہیونی پولیس اور تحقیقاتی ادارے ہربار ایسے واقعات کی تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہیں مگر آج تک کسی شرپسند کو اللہ کے گھروں کو آگ لگانے کے جرم میں سزا نہیں دی گئی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
