• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسلامی تحریک پر پابندی لگانے کے لیے اسرائیل کی قانون سازی

بدھ 29-10-2014
in فلسطین
0
plf legislationtoban
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے سنہ 1948ء کی جنگ میں صہیونی ریاست میں چلے جانے والے عرب شہروں میں قائم مذہبی سیاسی جماعت ’’اسلامی تحریک‘‘ اسرائیل کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے اور صہیونی ریاست مختلف حیلوں بہانوں سے اس تنظیم پر پابندیاں عاید کرنے اور اس کے کارکنوں کے خلاف غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے۔ اس ضمن میں ایک تازہ سازش یہ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے تحریک اسلامی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کا سہارا لینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

اسرائیل کے کثیرالاشاعات عبرانی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کی رکن کنیسٹ الیکزمیلر نے وزیر خارجہ آوی گیڈور لائبرمین کی ہدایت پر پارلیمنٹ میں ایک بل جمع کرایا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الشیخ رائد صلاح کی قیادت میں سرگرم اسلامی تحریک کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کی جائے۔ اگر پورے فلسطین میں اس تنظیم پر پابندی لگانا ممکن نہ ہو تو کم سے کم اسلامی تحریک کی شمالی فلسطین کی شاخ کو ہر صورت میں ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

مسودہ قانون کے متن میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ اسلامی تحریک شمالی فلسطین اور دوسرے عرب شہروں میں انتہا پسند اسلام کی ترویج و اشاعت میں سرگرم عمل ہے۔ اس تنظیم میں شامل فلسطینی عرب اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ قتل و غارت گری اور اسرائیلی تنصیبات پرحملوں میں بھی ملوث ہیں۔ لہٰذا پارلیمنٹ اس تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی منظوری دے۔

مسودہ قانون میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی تحریک کی شمالی برانچ صہیونی ریاست کی بالا دستی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے اور اسرائیل کو ایک یہودی جمہوری ملک کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ الزام بھی عاید کیا گیا ہے کہ اسلامی تحریک اسرائیل کے اندرونی شہروں میں اپنے اثرو روسوخ کو تیزی کے ساتھ پھیلا رہی ہے۔ نیز اس کے فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے ساتھ بھی نظریاتی اتحاد اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اسلامی تحریک کی سرگرمیوں کی اجازت دینا حماس کو اسرائیل کے اندر کام کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔

خیال ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اسلامی تحریک پر پابندی کی یہ پہلی کوشش نہیں بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ صہیونی ریاست کی جانب سے اسلامی تحریک کے سربراہ اور بزرگ فلسطینی لیڈر الشیخ رائد صلاح، ان کا پورا خاندان اور تنظیم کے قایدین اور کارکنوں کو بھی مسلسل عتاب کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ الشیخ رائد صلاح پر بھی بھونڈے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جاتے اور ان کے مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس میں داخلے پر پابندیاں عاید کی جاتی رہی ہیں۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.