خیال رہے کہ اسرائیل نے دو روز قبل بیت المقدس میں جبل ابو غنیم کے مقام پر تلہ شعفاط میں یہودی آباد کاروں کے لیے ایک ہزار نئے مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس پر عالمی برادری کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں مفتی اعظم فلسطین نے یہودی کالونیوں کو مسلمانوں کے تاریخی مقدس شہر بیت المقدس کی تاریخی اسلامی شناخت ختم کرنے کی گھنائونی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس کی اسلامی اور اس کی عرب شناخت کو مٹا کر اس پر یہودی رنگ چڑھانا چاہتا ہے۔ یہودی بستیوں کی تعمیر اسی سازش کا حصہ ہے۔
الشیخ محمد حسین کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے گردو پیش میں یہودی بستیوں کی تعمیر ایک خطرناک سازش ہے۔ اس سازش کے ذریعے اسرائیل بیت المقدس کے گرد و نواح میں اپنا انفرااسٹرکچر تعمیر کرنے کے بعد قبلہ اول پر مستقل قبضے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہو گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
