اسرائیل کی ایک عدالت کے حکم پر زیرِ حراست فلسطینی خاتون سماجی کارکن نوال سعید السعدی کو سزائے قید پوری ہونے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ 50 سالہ سعید السعدی کا تعلق فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ’جنین‘ سے ہے۔ السعدی کی رہائی کے باوجود اب بھی اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل خواتین کی تعداد 16 ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر” کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نوال سعید السعدی کو پچھلے 28 ماہ تک اسرائیلی جیل "ھشارون” میں رکھا گیا تھا۔ السعدی کو اسرائیلی عدالت کی جانب سے 24 ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی، گذشتہ اپریل میں صہیونی عدالت میں سزا میں 4 ماہ کا مزید اضافہ کر دیا تھا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر” کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نوال سعید السعدی کو پچھلے 28 ماہ تک اسرائیلی جیل "ھشارون” میں رکھا گیا تھا۔ السعدی کو اسرائیلی عدالت کی جانب سے 24 ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی، گذشتہ اپریل میں صہیونی عدالت میں سزا میں 4 ماہ کا مزید اضافہ کر دیا تھا۔
سعید السعدی اسرائیلی جیل میں پہلی مرتبہ نہیں گئی بلکہ ماضی میں بھی وہ 3 بار صہیونی جیلوں میں قید کاٹ چکی ہے۔ اس کے شوہر الشیخ بسام السعدی اسلامی جہاد کے اہم رہنما ہیں۔ وہ بھی اکثر اسرائیلی جارحیت اور عتاب کا شکار رہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
