مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق قبرص حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حادثے کا شکار ہونے والی کشتی کے 345 مسافروں کو بچا لیا ہے۔ ان میں 52 بچے، 93 خواتین اور 200 مرد شامل ہیں۔ یہ کشتی وسط ستمبر میں یونان کی جانب جاتے ہوئے سمندر میں طوفانی ہواؤں کے چلنے سے الٹ گئی تھی، جس کے نتیجے میںکئی افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
فلسطینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ قبرص میں قائم فلسطینی سفارت خانے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی مسافر کشتی میں 70 فی صد فلسطینی سوار تھے اور بقیہ سب شامی شہری تھے۔ سفارت خانے کا کہنا ہے کہ کشتی ڈوبنے کے بعد بچائے جانے والے شہری اب بہتر حالت میں ہیں۔ قبرص حکام نے تمام مسافروں کے طبی معائنے کا حکم دیا ہے۔ قانونی مراحل مکمل کیے جانے کے بعد انہیں اگلی منزل کی جانب روانہ کر دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ وسط ستمبر میں ایک مسافر کشتی مصر کے ساحلی شہر اسکندریہ سے کم وبیش 700 افراد کو لے کر یونان کی جانب روانہ ہوئی جو ایک روز کے سفر کے بعد حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثے کی ایک وجہ انسانی اسمگلر بتائے جاتے ہیں جو ان تمام مسافروں کو سمندر میں چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بٹھا کر انہیں مختلف ملکوں کو اسمگل کرنا چاہتے تھے۔ اسمگلروں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ مصری تھے تاہم اب فرار ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
