بیت لحم میں مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے بتایا کہ صہیونی فوج نے علی الصباح شہر کے مشرقی قصبے تقوع کے داخلی راستے پر ناکہ لگا کر پیدل اور گاڑیوں میں سوار شہریوں کی جامہ تلاشی کا سلسلہ شروع کیا۔ تلاشی کی کارروائی کے دوران دو فلسطینی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ بیت لحم کے کچھ شہری کام کاج کی غرض سے بیت المقدس جانا چاہتے تھے۔ انہیں صہیونی فوج نے راستے میں روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار کی کوشش کی تاہم قابض فوج نے ان پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
منگل کے روز صہییونی فوج نے بیت لحم کے مشرقی قصبے بیت ساحور میں بھی موبائل ناکہ لگا کر شہریوں کی تلاشی لی اور کئی شہریوں کی شناخت پریڈ کرائی گئی۔
ادھر بیت لحم کے مختلف شہروں میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے بھی گھر گھر تلاشی کے دوران کئی فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” سے تعلق رکھنے والے سابق اسیران حسین ابو عکر، محمد ابراہیم ابو سرور، محمد قوار اور عبداللہ صقر شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
