مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کے ذمہ دار ادارے "الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ” نے بتایا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی غرض سے قبلہ اول میں آنے والے فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان ہاتھا پائی
اور قابض فوج اور پولیس کے ہاتھوں فلسطینی نمازیوں کو زدو کوب کیے جانے کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی پولیس اور فوجی اہلکار روز مرہ کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے والے فلسطینی مرد و خواتین نمازیوں کو زدو کوب کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کو قبلہ اول میں داخلے سے روکنے کے لیے بیشتر اوقات طاقت کا بے دریغ استعمال بھی کھلے عام کیا جاتا ہے۔ فلسطینی نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر مرچوں سے ملا پانی، زہریلی گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج حتیٰ کہ گالم گلوچ تک کی جاتی ہے۔ دو روز قبل اسرائیلی فوج کی آنسو گیس کی شیلنگ سے ایک معمر فلسطینی خاتون جو نماز کی ادائی کے لیے قبلہ اول میں داخل ہونا چاہتی تھی دم گھٹنے سے بری طرح متاثر ہوئی اور اسے اسپتال لے جانا پڑا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج اور پولیس کو فلسطینیوں کو قبلہ اول میں داخلے سے روکنے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ درکار ہوتا ہے۔ ان دنوں عبرانی سال نو کا غلغلہ برپا ہے اور اسی کی آڑ میں 45 سال سے کم عمر کے فلسطینیوں کو قبلہ اول میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے اس کے داخلی راستوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور ناکے لگا کر راستے سیل کیے گئے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس دوران یہودی آباد کاروں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں بلکہ صہیونی پولیس اور فوج انہیں فول پروف سیکیورٹی مہیا کرتے ہیں۔ صہیونی فوج اور پولیس کی جانب سے فلسطینی شہریوں سے بدسلوکی اور ان کی مار پیٹ کے باوجود قبلہ اول سے ان کی محبت اور عقیدت بدستور برقرار ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
