فلسطین کی سپریم افتاء کونسل نے بعض فلسطینی شہریوں کی جانب سے اپنے ملک کو چھوڑ کر روزگار کی تلاش اور دوسرے مقاصد کے لیے دوسرے ممالک میں سکونت اختیار کرنے کو "قومی جرم” قرار دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق افتاء کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ارض فلسطین” ارض رباط” ہے اور دنیا کے تمام فلسطینی باشندوں کو اپنے وطن ہی کی طرف لوٹنا ہو گا، کسی فلسطینی شہری کے لیے انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ مناسب نہیں کہ وہ روزگار اور دیگر مقاصد کے لیے اپنا ملک چھوڑ دے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں اٹلی کے قریب سمندر میں غرق ہونے والی ایک کشتی میں بڑی تعداد میں فلسطینی بھی سوار تھے جو انسانی اسمگلروں کی معاونت سے ترک وطن کر کے یونان اور یورپی ملکوں میں جانا چاہتے تھے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہایت قابل مذمت سوچ ہے کہ کوئی فلسطینی محض دنیاوی ضروریات اور اپنے عیش وآرام کی خاطر اپنا مقدس وطن چھوڑ دے۔
افتاء کونسل کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں سہانے خواب دکھا کر لے جانے والے وہی لوگ ہیں جو ارض فلسطین پر پوی دنیا سے یہودیوں کو لا کر آباد کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد فلسطینیوں کو روزگار اور سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ وہ فلسطینیوں کو ان کے اپنے وطن سے دور کرنا چاہتیے ہیں۔
افتاء کونسل نے مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کی روز مرہ کی بنیاد پر جاری یلغار اور دھاوں کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلیوں نے عملا قبلہ اول کو زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
