اسرائیلی فوج نے آٹھ سال کے بعد ایک فلسطینی ڈرائیور کو گاڑی چلاتے ہوئے ناحق قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوج کی جانب سے اسرائیلی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ پانچ اپریل 2006ء کو غرب اردن کے شمالی شہر طوباس میں الباذان روڈ پر گاڑی چلاتے ہوئے
فوجی اہلکاروں نے زکریا دراغمہ نامی ایک ڈرائیور پر بلا وجہ گولیاں چلا دی تھیں جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔
خیال رہے کہ فلسطینی تحریک انتفاضہ کے دوران سنہ 2006ء میں صہیونی فوج نے طوباس کے مقام پر ایک فلسطینی ڈرائیور کو اس وقت گولیاں مار دی تھیں جب وہ ناکے پر رکا ہوا تھا۔
فلسطین جنرل لیبر یونین کے چیئرمین ابراہیم دراغمہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے آج عدالت کے سامنے زکریا دراغمہ کے قتل ناحق کا اعتراف کرلیا ہے اور کہا ہے کہ فوج نے غلطی سے دراغمہ پر گولیاں چلائی تھیں۔ وہ کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل کی ایک فوجی عدالت میں اس مقدمہ کا حتمی فیصلہ 19 ستمبر کو سنائے جانے کا امکان ہے۔ عدالتی فیصلے میں زیادہ سے زیادہ قاتل فوجیوں کو جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
