مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رائد الجعبری کی شہادت کے حوالے سے اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کی موت خود کشی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ فلسطینی حکام نے صہیونی فوج کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہ تھے کہ رائد الجعبری نے خود کشی کی ہے۔
فلسطینی وزیر انصاف سلیم السقاء نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فورینزک میڈیکل رپورٹ نے اسرائیلی حکام اور جیلروں کا رائد الجعبری کی شہادت کے حوالے سے جھوٹ پکڑا گیا ہے۔ الجعبری نے خود کشی نہیں کی بلکہ اسے وحشیانہ تشدد کر کے شہید کیا گیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر صہیونی حکام کے خلاف تحقیقات کرائیں اور جیلوں میں ہونے والی اموات پرخاموشی کے بجائے اس بات پتا لگایا جائے کہ آیا اسرائیلی قید خانوں میں کوئی بھی فلسطینی کیسے جام شہادت نوش کر رہا ہے۔
فلسطینی وزیر نے بتایا کہ پچھلے کچھ عرصے میں اسرائیلی عقوبت خانوں میں 210 فلسطینی اسیران پراسرار طورپر شہید ہو چکے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ یہ تمام شہادتیں بھی صہیونی فوج کے وحشیانہ تشدد کا نتیجہ ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو اس قتل عام کا بھی نوٹس لینا چاہیے اور انہیں ان اموات کی تحقیقات کرنی چاہیے۔
سلیم السقاء نے بتایا کہ رائد الجعبری دو ماہ تک اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل رہا۔ اس دوران اس کے بارے میں کسی بیماری کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی، بھلا اس نے کیسے خود کشی کی ہے۔
