اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 کے نامہ نگار”یوف مرڈ خائے” کا کہنا ہے کہ بیت لحم میں فوج نے حکومت کی اجازت سے چار ہزار ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا ہے۔ گوش عتصیون یہودی کالونی میں توسیع کا فیصلہ تین ماہ قبل اس وقت کیا گیا تھا جب مغربی کنارے کے الخلیل شہر سے تین یہودی لڑکے پراسرار طور پر لاپتا ہو گئے تھے۔
ٹی وی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کو اراضی پر قبضے سے متعلق اعتراض جمع کرانے کے لیے ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ٹی وی بیان میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ فوج کی جانب سے جس رقبے پر قبضہ کیا ہے اسے اب خالی نہیں کیا جائے گا کیونکہ اسے یہودی کالونی کی توسیع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ادھر شمالی رام اللہ میں "بیت ایل” یہودی کالونی میں بھی مزید 300 مکانات کی تعمیر کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے دو سال پیشتر بیت ایل میں مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا تھا تاہم اس منصوبے پر کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بیت ایل کالونی میں جلد ازجلد تعمیرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے ساتھ نام نہاد امن مذاکرات کے دوران بیت لحم کی یہودی کالونی "غوش عتصیون” معالیہ ادومیم اورجنوبی نابلس کی اسراائیلی یہودی کالونیوں کو ختم نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
