انسانی حقوق کی تنظیم کے چیئرمین قدورہ فارس نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ نے حماس سے تعلق رکھنے والے اسیران کے حوالے سے الگ سے پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق دوسرے قیدیوں پر نہیں ہو گا۔ نئی پابندیوں کے تحت حماس کے کارکنوں کو دو ماہ میں صرف ایک مرتبہ کسی عزیز رشتہ دار سے ملاقات کی اجازت ہو گی جبکہ عام قیدیوں کو دو ہفتے میں ایک مرتبہ قیدیوں سے ان کے عزیزوں کی ملاقات کرائی جاتی ہے۔
حماس کے کارکن صبح اور شام کے اوقات میں جیل کوٹھڑیوں سے باہر چہل قدمی سے استفادہ نہیں کرسکیں گی۔ کینٹین استعمال نہیں کریں گے۔ فلسطینی اتھارٹی حماس کے کسی بھی اسیر کو صرف چار سو شیکل کی رقم فراہم کرنے کی مجاز ہوگی۔ اس کے علاوہ حماس کے قیدیوں کے کمروں کے باہر خصوصی مواصلاتی آلات نصب کیے جائیں گے۔
