پیر، 2 جون کو فلسطینی اسیران کی انتظامی حراست کے خلاف اور فوری رہائی کے لئے جاری بھوک ہڑتال کو 40 دن مکمل ہوگئے۔ احرار سنٹر برائے انسانی حقوق اور فلسطینی اسیران کی سوسائٹی نے تصدیق کی ہے کہ بھوک ہڑتال فلسطینی اسیران کی صحت روز بروز گرتی جارہی ہے اور اس وقت تک تقریبا 1500 فلسطینی اسیران نے بھوک ہڑتال میں شرکت اختیار کرلی ہے۔
احرار سنٹر برائے انسانی حقوق نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیادت اور قومی جماعتیں اسیران کی مدد کریں اور ان کو جلد از جلد اسرائیلی جیلوں سے رہا کروائیں۔ سنٹر کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے کہا ہے کہ،” فلسطینی اسیران پر مصیبت کے وقت میں خاموشی رکھنے کی سمجھ نہیں آتی ہے۔”
خفش نے مزید کہا کہ ابھی تک بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیلی جرائم کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔
اسرائیلی چینل 10 کے مطابق پیر کے روز بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران میں سے 70 اسیران کو صحت کی خرابی کی وجہ سے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر فلسطینی اسیر ایمن تابش کے حوالے سے بھی خطرات کا اظہار کیا گیا کیوںکہ انہوں نے 95 دنوں سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔
