مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنی ایک تازہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ محب وطن فلسطینیوں کے خلاف فلسطینی اتھارٹی وہی سلوک کررہی ہے جو صہیونی دشمن ریاست کی جانب سے روا رکھا گیا ہے۔ حماس اور دوسری جماعتوں کے کارکنوں کو بغیر کسی الزام کے حراست میں لیا جاتا ہے اور حراستی مراکز میں انہیں اذیتیں دی جاتی ہیں۔
حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب حماس اور صدر محمود عباس مفاہمت کی بات کر رہے ہیں۔ قومی مفاہمت کے لیے فتح کی جانب سے غزہ کی پٹی میں وفود بھیجے جانے کی بات ہو رہی ہے۔ ایسے میں دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے حماس کے پرامن اور نہتے کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں جیلوں میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو فلسطینی اتھارٹی کی غنڈہ گرد پولیس کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے اپنے کارکنوں کے ساتھ بد سلوکی پر دکھ ہے۔
بالخصوص سیاسی کارکن نزیہ ابوعون پر جیل میں جو مظالم ڈھائے گئے ہیں ان پر خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا ہے۔ فلسطینی عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مغربی کنارے میں سیاسی بنیادوں پر پکڑ دھکڑ بند کرنے کے مطابات کو دیوار پر مارا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ایذائیں دینا کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہے۔ اگر فتح کی قیادت مفاہمت کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے سیاسی کارکنوں پر تشدد بند کرانا ہوگا ورنہ حماس یہ سمجھنے میں حق بہ جانب ہوگی کہ فتح کی نیت میں فتور ہے کیونکہ وہ مفاہمت کے بجائے صہیونی دشمن کی راہ پر چل رہی ہے۔
