اسرائیلی حکومت نے ایک خفیہ سازش کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کی آٹھ سو ایکڑ وسیع زرعی اراضی ایک یہودی کالونی میں شامل کرلی ہے جبکہ اس کے مالکان کو کانوں کان خبر تک نہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "عرب اسٹڈیزگروپ” کے زیر اہتمام "لینڈ ریسرچ سینٹر” کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب مشرقی علاقے "قریوت” کی 800 ایکڑ زرعی زمین اسی شہر میں بنائی گئی یہودی کالونی "شیلو” میں شامل کرلی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی سپریم ریگولیشن کونسل کے ذیلی ادارے نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں اس خفیہ منصوبے کی تفصیلات جاری کیں اور بتایا کہ کونسل بے اپنے فیصلہ 15/205 کے تحت قریوت کی آٹھ سو دونم اراضی "شیلو” یہودی کالونی کا حصہ قرار دے دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کی اراضی کو یہودی کالونی کے لیے استعمال میں لائے جانے کے اعلان کے بعد فلسطینی شہریوں کو ان زمینوں پر کھیتی باڑی سے جلد روک دیا جائے گا۔ اسرائیلی حکومت اگلے مرحلے میں اس اراضی پر کئی تعمیراتی، سیاحتی اور زرعی پروجیکٹ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اراضی پر ماڈل فارم ہاؤس، آثارقدیمہ کے پارک اور یہودی آباد کاروں کے لیے رہائیشی فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
اس وسیع اراضی پر قبضے کے بعد جنوبی قریوت اور شاہرہ 60 کو باہم مربوط بنانے اور قریوط روڈ کھولنے کی فلسطینی کوششیں رائیگاں چلی جائیں گیی اور فلسطینی شہری رام اللہ کی طرف سے بیس کلو میٹر کے علاقے سے محروم ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو آمد ورفت میں بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
