اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں "تلبیوت” یہودی کالونی میں یہودی آباد کاروں کے لیے 350 مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 کے مطابق صہیونی بلدیہ نے پیر کے روز اپنے ایک اجلاس میں مشرقی بیت المقدس میں 08 رہائشی پلازے تعمیر کرنے کی منظوری دی۔ جن میں سیکڑوں رہائشی فلیٹس شامل ہوں گے۔درایں اثناء فلسطینی دانشور اور سماجی رہ نما ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کے لیے نئے مکانات کی تعمیر کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل عالمی برادری کے مطالبات کونظرانداز کرتےہوئے فلسطین میں غیرقانونی توسیع پسندی پر عمل پیرا ہے۔
اپنے ایک بیان میں حنا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مشرقی بیت المقدس اسرائیل کی یہودی آباد کاری کا سب سے اہم ہدف ہے، جہاں فلسطینیوں سے فوجی طاقت کے ذریعے ان کی زمینیں اور املاک ہتھیائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں بالخصوص معاہدہ جنیوا4 اور سنہ 1907ء میں ہیگ میں طے پائے عالمی معاہدے کے تحت کوئی حکومت کسی متنازعہ علاقے پر یک طرفہ تعمیرات نہیں کر سکتی لیکن اسرائیل پچھلے کئی سال سے اس عالمی قانون کا مذاق اڑا رہا ہے۔
