اسرائیل کے عبرانی اخبار معاریف کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی پولیس نے گذشتہ برس مغربی کنارے میں اسرائیل پرحملوں کے کئی اسکیمیں ناکام بنائی ہیں۔ اگر فلسطینی اتھارٹی کی پولیس سرگرم نہ ہوتی تو اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آباد کاروں کو غیرمعمولی جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی حکام کا یہ اندیشہ درست ہے کہ اگر فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو فلسطینی اسرائیل کے خلاف ایک نئی تحریک انتفاضہ برپا کرسکتے ہیں۔ آج تک اگر تحریک انتفاضہ شروع نہیں ہوسکی ہے تو اس کا سہرا فلسطینی اتھارٹی اوراس کے سیکیورٹی اداروں کے سر جاتا ہے۔
اخبار مزید لکھتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام علاقوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فلسطینی شہریوں میں اسرائیل کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ فلسطینیوں میں نفرت کا ایک آتش فشاں ہے جو بھڑک رہا ہے اور دھماکے سے کسی بھی وقت اچانک پھٹ سکتا ہے۔ تاہم اسے فلسطینی اتھارٹی کےسیکیورٹی ادارے ہی روک سکتے ہیں۔ اب تک فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں نے فلسطینی مزاحمت کاروں کا تعاقب کرکے اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کو آرام اور چین پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فوج اور سیاسی حلقوں میں فلسطینی پولیس کے اس کردار کی ہمیشہ تحسین کی جاتی رہے گی۔ کیونکہ عباس ملیشیا نے اردن اور سرحد پار سے اسلحہ کی اسمگلنگ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کارروائیوں کو دن رات کی کوشش سے ناکام بنایا ہے۔
