انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے تاریخی قبرستان”مامن اللہ” کی ایک مرتبہ پھربے حرمتی کرتےہوئے وہاں پرموجود کئی بزرگوں کی قبریں اکھاڑ پھینکی ہیں۔
خیال رہےکہ مامن اللہ قبرستان گذشتہ کئی سال سے یہودی شرپسندوں کی غنڈہ گردی کے مسلسل نشانے پرہے۔ قبرستان میں کئی جلیل القدر صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، محدثین اور بڑی تعداد میں دیگر بزرگان دین کی آخری آرام گاہیں بھی ہیں۔
بیت المقدس کے وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی بلدیہ نے بھی مامن اللہ قبرستان کی اراضی پر ایک عارضی کیفی ٹیریا، یہودی خواتین پیشواؤں کےلیے اقامت گاہ اور کتوں کے لیے ایک پارک بھی بنایا۔ اس کےعلاوہ یہودیوں نے لکڑیوں کا برادرہ بڑی مقدار میں قبروں پر پھینک کریہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہاں قبریں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔
حلوہ مرکزاطلاعات نے فلسطینی محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر برائے مقابرو مقدسات انجینیئر مصطفیٰ ابو زھرہ کا ایک بیان بھی نقل کیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ صہیونی بلدیہ اور انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مامن اللہ قبرستان کی جنوبی سمت میں اپنی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ انہوں نے قبرستان کا قریبا 15 ایکڑ کا رقبہ قبضے میں لینے کے بعد وہاں پرموجود تاریخی قبروں کو مسمار کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ حصے پر یہودی حکام کی جانب سے 30 سے 50 سینٹی میٹر لکڑ کابرادہ پھینکا گیا، تاکہ قبروں کو اس تلے چھپایا جاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
