فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں سرگرم اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی برائے پناہ گزین کے مقامی ملازمین کی ہڑتال کو ایک ماہ مکمل ہونے کو ہے لیکن امدادی ادارے نے ان کے جائز مطالبات پورے کرنے سے متعلق کوئی یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔
دوسری جانب نابلس میں جاری احتجاجی دھرنے میں فلسطین کے مختلف نمائندہ طبقات کی جانب سے بھی اظہار یکجہتی کیا جا رہا ہے۔ اتوار کے روز فلسطینی اراکین پارلیمنٹ بھی اس دھرنے میں شریک ہوئے اور ہڑتالی ملازمین سے اظہار یکجہتی کیا۔
خیال رہے کہ عالمی امدادی ادارے "اونروا” کی جانب سے مغربی کنارے کے مہاجر کیمپوں میں صحت، تعلیم اور صحت کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈز میں کمی کرنے پر ادارے کے فلسطینی ملازمین نے ہڑتال شروع کردی تھی۔ یہ ہڑتال اب بھی بدستور جاری ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اتوار کے روز حماس کے پارلیمانی بلاک "اصلاح وتبدیلی” کی ٹکٹ سے رکن اسمبلی منتخب ہونے والے رہ نماؤں احمد الحاج علی، منا منصور اور داؤد ابو سیر احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے الحاج علی نے کہا کہ وہ "اونروا” کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امداد کم کرنے کے فیصلے جاری اس دھرنے کی بھرپور حمایت کرتےہین۔ اگر اونروا فلسطینی پناہ گزینوں اور مہاجرین کی امداد کے لیے قائم کیا گیا ہے تو اسے فلسطینیوں ہی کی خدمت بھی کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ ادارے کے ملازمین ایک ماہ سے اس کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لیکن اونروا کو ذرا بھربھی ان کے احتجاج کا اثرنہیں ہوا ہے۔ الحالی علی کا کہنا تھا کہ اونروا فلسطینیوں کو بھوکے مارنے کی پالیسی ترک کرے اور ان کی امداد کے لیے مختص فنڈز میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ہڑتالی ملازمین کے مطالبات فورا پورے کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
