عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ بدھ کو صہیونی پولیس نے 18 سالہ خلیل خرمہ کو حراست میں لینے کے بعد القشلہ کے مقام پرتفتیشی سینٹر منتقل کیا۔ بعد ازاں اسے چھوڑ دیا گیا مگر اسے دوہفتے کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔ فلسطینی حافظ قرآن کے بارے میں صہیونی پولیس کے اس ظالمانہ فیصلے کا سبب معلوم نہیں ہوسکا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خلیل کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مسجد اقصیٰ کے ایک بیرونی صحن میں کھڑا تھا۔ اسرائیلی پولیس اہلکار اس کے قریب آئے اور اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈال کرلے گئے تھے۔
مسجد اقصیٰ میں دینی تعلیم کی ذمہ دار تنظیم "اقصیٰ فاؤنڈیشن” کے مندوب عمیر مرید کا کہنا ہے کہ انہوں نے خلیل خرمہ کو حراست میں لینے والے پولیس اہلکاروں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ملزم گرفتاری سے قبل صہیونی سیکیورٹی اہلکاروں کی تصاویر اتار رہا تھا۔ اسے متعدد مرتبہ منع کیا گیا مگراس نے موبائل کیمرے کی مدد سے تصاویر اتارنے کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے بعد اسے حراست میں لینا پڑا ہے۔ صہیونی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم [خلیل] کی سرگرمیاں مشکوک دکھائی دیتی ہیں جس پر اسے چودہ دن کے لیے مسجد اقصیٰ میں داخلے پرپابندی عائد کی گئی ہے۔
