مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے عبرانی ٹی وی "ٹیلی ویژن 7” نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو دائیں بازو کی شدت پسند تنظیموں کو فلسطینی اسیران کی رہائی پر احتجاج سے روکنا چاہتی ہیں، اس کے لیے انہوں نے ایک نیا ڈھونگ رچانے کا فیصلہ کرتے ہوئے "اسیران کی رہائی بمقابلہ یہودی آباد کاری” کا فارمولہ تیاری کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ اور سیکیورٹی حکام پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس کل اتوار کو متوقع ہے جس میں سنہ 1994ء سے قبل حراست میں رکھے گئے 26 فلسطینی شہریوں کی رہائی کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ بعد ازاں رواں ہفتے یا اگلے ہفتے ان فلسطینیوں کی رہائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ جس روز فلسطینی رہا کیے جائیں گے اسی دن مغربی کنارے میں یہودی آباکاروں کے لیے مزید مکانات کی تعمیر کا بھی اعلان متوقع ہے۔
عبرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت جن چھبیس فلسطینیوں کو رہا کرنے جا رہی ہے، سیکیورٹی اداروں نے انہیں نہایت خطرناک قرار دے رکھا ہے۔ ان کی رہائی سے اسرائیل کے لیے مزید مشکلات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت پر مزید فلسطینی اسیران کی رہائی روکنےکے لیے دباؤ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ وزارت داخلہ اور کابینہ کا اس سلسلے میں ابھی تک کوئی اجلاس نہیں ہو سکا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاھو فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے فضاء سازگار بنا رہے ہیں۔ مغربی کنارے میں مزید توسیع کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
