مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں اسرائیلی بنک کے گورنر کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع خود بھی امریکا سمیت بعض دوسرے ملکوں سے بڑے دفاعی معاہدوں کی کوششیں کر رہی ہے لیکن اس ضمن میں سب سے بڑی رکاوٹ رقوم کی کمی ہے۔ ملکی زرمبادلہ کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جس کے باعث کوئی بڑی ڈیل ہونا ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج اور حکومت کی نظریں ایک مرتبہ پھر امریکا پر مرکوز ہیں۔ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ امریکا تل ابیب کوآئندہ دس سال تک دفاعی بجٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سالانہ 30 ارب ڈالرز کی فوجی امداد، اسلحہ اور دیگر جنگی آلات فراہم کرے تاکہ اسرائیل خطے میں اپنی فوجی بالادستی قائم رکھ سکے۔
مسٹر فیچر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کو امریکا سے اسلحے کی ڈیل کرنے میں بہت جلدی ہے اور عجلت ہی میں فائدہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکومت اپنے دیرینہ اتحادی سے "ایف 22” جنگی طیاروں، جدید میزائل، راڈار سسٹم، لڑاکا ہیلی کاپٹر اور جنگی جہاز، فضاء میں طیاروں کو ایندھن سپلائی کرنے والے جہاز اور روسی ساختہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کا تقاضا کر رہی ہے۔
أعلى الصفحة
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
