فلسطین کی انسانی حقوق کےمرکز نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی یونیورسٹیوں کے پانچ اساتذہ اور معروف علمی شخصیات کی رہائی کے لیے مداخلت کرے۔ ان پانچوں کو بغیر کسی فرد جرم اور عدالتی ٹرائل کے انتظامی بنیادوں پر قید رکھا گیا ہے۔
اسیران امور اور انسانی حقوق کے مرکز ’’احرار‘‘ نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اپنے پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل پر لازم ہے کہ فلسطینی یونیورسٹیوں کے نامور اساتذہ کو بغیرکسی وجہ سے قید میں رکھنے پر حرکت میں آئے۔ مرکز احرار نے کہا کہ گرفتار کیے گئے ان پانچوں افراد نے اپنے اپنے شعبوں میں ڈاکٹریٹ کر رکھا ہے جن کو بلاوجہ قید رکھنے پر ساری دنیا کو اسرائیل کی مذمت کرنا چاہیے۔
مرکز نے بتایا کہ اس نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو پانچوں فلسطینی دانشوروں کی تفصیلات، ان کی تعلیمی اسناد اور ان کی اکیڈمک خدمات کی تفصیل فراہم کردی ہے۔ اسی طرح مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود ان پر کی جانے والی سختیوں سے بھی عالمی تنظیم کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
مرکز نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کی کہ وہ اپنی انسانی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے فلسطینی قوم کی علمی شخصیات کو اسرائیلی مظالم سے نجات دلوائے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
